بنگلورو، یکم جنوری(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ مانسون کی ناکامی کے بعد ریاست کے جن علاقوں میں دوبارہ فصل کی گنجائش ہو اور کاشتکار اس کے لئے مستعد ہیں تو حکومت کی طرف سے ان کے کھیتوں کو پانی مہیا کرانے کے لئے تمام ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔
سابق وزیراعلیٰ اور اپنے سیاسی گرو ایس ایم کرشنا سے ملاقات اور انہیں سال نوکی مبارکباد دینے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ مانسون کی ناکامی کے بعد کاشتکاروں کو اپنے کھیتوں میں موسم گرما کی فصلیں اگانے کا موقع ایک بار پھر میسر آتا ہے۔ ریاست بھر کے کاشتکار اگر ان فصلوں میں دلچسپی لینا چاہیں تو ریاستی حکومت کی طرف سے ان کے کھیتوں کو وافر مقدار میں پانی پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ باغبانی پر مشتمل فصلوں کے لئے بھی پانی کا انتظام کرنے پر حکومت غور کررہی ہے۔ ملناڈ اور آس پاس کے علاقوں میں بھدرا آبی ذخیرے سے پانی فراہم کرنے اور شمالی کرناٹک کے اپر کرشنا پراجکٹ کے تحت آنے والے بائیں کینال سے پانی مہیا کرائے جانے پر غور کیا جارہاہے۔
وزیر موصوف نے کہاکہ اس سلسلے میں محکمے کے تمام افسروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ آبی وسائل کی طرف سے حتی الامکان یہ کوشش کی جائے گی کہ کسانوں کی فصلوں کو کسی بھی طرح کا نقصان نہ ہونے پائے۔ فصلوں کے لئے جس قدر پانی درکار ہوگا اتنا پانی مہیا کرانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔